دیوبندی شیعہ بھائی بھائی (قسط 2)

جیسا کہ سبھی کو معلوم ہے کہ آج سے تین سال قبل ہم نے ایک تحریر بنام ”دیوبندی، شیعہ بھائی بھائی“ شائع کی تھی.

https://www.facebook.com/share/p/1FKUG222vi/

اِس تحریر میں ہم نے دیوبندی مولوی رشید احمد گنگوہی کے شیعہ روافض کے بارے میں عقائد بیان کیے تھے کہ آج کل کے دیوبندی ہم اہلسنت کو یہ طعنہ دیتے ہیں کہ ”بریلوی، شیعہ بھائی بھائی“ جبکہ اُن کے بڑے ہمیشہ سے شیعہ عقائد کی تائید کرتے آئے ہیں اور روافض کے جنازے تک پڑھتے رہے اور شیعہ کے حقیقی بھائی تو دیوبندی ہیں.

ہماری اُس تحریر کا آج تین سال گزر جانے کے باوجود دیوبندیوں کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا، ہم نے اپنی وہ تحریر تین سال قبل ”دارالافتاء دارالعلوم دیوبند الہند“ کی ویب سائیٹ پر بھی اپلوڈ کی تھی، اور اُس سائیٹ کے مطابق ہر سوال کا جواب دو سے تین ہفتوں میں دے دیا جاتا ہے لیکن ہماری تحریر کا تین سال گزر جانے کے باوجود کوئی جواب نہیں آیا.

دارالافتاء دارالعلوم دیوبند کی ویب سائیٹ پر ہماری تحریر کا لنک:

https://darulifta-deoband.com/home/ur/islamic-beliefs/626172

دیوبندی شیعہ بھائی بھائی (قسط 2)

اِس دوسری قسط میں ہم دورِ جدید کے دیوبندی علماء کے فتاویٰ سے یہ ثابت کریں گے کہ دیوبندی ہی روافض کے بھائی ہیں اور روافض و دیوبندیوں کے صحابہ کرام رضوان الله علیہم اجمعین کے بارے میں عقائد ایک جیسے ہی ہیں، ذیل میں تمام فتاویٰ جات مع لنک کے ملاحظہ فرمائیں.


کسی صحابی کو کافر کہنے والا کافر ہے یا نہیں ؟

دارالافتاء دارالعلوم دیوبند سے سوال ہوا!

کہ اگر کوئی آدمی کسی بھی صحابی کو کافر کہہ دے تو کیا وہ دائرے اسلام میں رہے گا یا نہیں رہے گا ؟

(تو دارالافتاء کی طرف سے جواب دیا گیا کہ) صحابی رسول کو کافر کہنے والا رافضی، کافر ، نصوصِ قطعیہ کا منکر ہے، دائرہ اسلام سے خارج ہے، اگر وہ واقعی رافضی ہے اور روافض کے کفریہ عقائد اس میں پائے جاتے ہیں تو جواب صحیح ہے.

https://darulifta-deoband.com/home/ur/islamic-beliefs/59939

دیوبندی شیعہ بھائی بھائی (قسط 2)


اِس سے معلوم ہوا کہ دیوبندیوں نے ایک جگہ تو یہ فتویٰ دے دیا کہ اگر کوئی شخص کسی بھی صحابی کو کافر کہے تو کہنے والا خود کافر ہو جاتا ہے، لیکن جب اِسی دارالافتاء سے رشید احمد گنگوہی کی اُس عبارت کے بارے میں سوال ہوا جس میں اُس نے کسی صحابی کو کافر کہنے والے کو محض ملعون کہا اور کہا تھا کہ وہ شخص دیوبندیت سے بھی خارج نہیں ہوتا تو دارالافتاء والوں نے کیا جواب دیا مُلاحظہ فرمائیں.

عنوان: کیا صحابہ میں سے کسی ایک کی تکفیر کرنے والا کافر ہے ؟

سوال: اور جو شخص صحابہ کرام میں سے کسی کی تکفیر کرے (یعنی صحابی کو کافر کہے) وہ ملعون ہے، ایسے شخص کو امام مسجد بنانا حرام ہے اور وہ اپنے گناہِ کبیرہ کے سبب سنت جماعت(دیوبندیت) سے خارج نہ ہو گا (سائل نے کہا) جب کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ صحابہ کو کافر کہنے والا کافر ہے، فتاویٰ رشیدیہ میں لکھا ہے سنت جماعت (دیوبندیت) سے خارج نہ ہو گا، اس بات کی میری رہنمائی کیجیے، صحابہ کو کافر کہنے والا سنت جماعت سے خارج کیوں نہیں ہو گا ؟

دارالافتاء دارالعلوم دیوبند والوں نے جواب میں کہا!

مذکورہ بالاصورت میں فتاویٰ رشیدیہ کے اندر جو یہ مسئلہ بیان کیا گیا ہے کہ ”جو شخص صحابہ کرام میں سے کسی کی تکفیر کرے وہ ملعون ہے ایسے شخص کو مسجد کا امام بنانا حرام ہے اور وہ اپنے کبیرہ گناہ کے سبب سنت جماعت (دیوبندیت) سے خارج نہ ہو گا“ یہ مسٸلہ صحیح اور درست ہے، جہاں تک اِس مسئپہ کا تعلق ہے جو آپ نے ذکر کا ہے کہ ”ہمارا عقیدہ تو یہ ہے کہ صحابہ کو کافر کہنے والا کافر ہے“ تو یہ عام ضابطہ نہیں ہے بلکہ شیخین کے ساتھ خاص ہے، کہ اگر کوئی آدمی شیخین کو کافر کہتا ہے تو کہنے والا کافر ہو گا لیکن اگر شیخین کے علاوہ کسی صحابی کو کوئی بُرا بھلا یا اُن کے اوپر کفر وغیرہ کا اطلاق کرتا ہے تو ایسا آدمی فاسق اور گمراہ ہے مگر اس کے اوپر کفر کا حکم عاٸد نہ ہو گا.

https://darulifta-deoband.com/home/ur/islamic-beliefs/605400

دیوبندی شیعہ بھائی بھائی (قسط 2)

یہاں دیوبندی مولیوں کی منافقت اور شخصیب پرستی واضح طور پر دیکھی نا سکتی ہے کہ سابقہ فتوے میں تو کسی بھی صحابی کو کافر کہنے والے کو رافضی و کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا لیکن جب کسی نے رشید احمد گنگوہی کی عبارت کے متعلق سوال کیا کہ اُس نے کسی صحابی کو کافر کہنے والے کو محض ملعون کہا ہے اور کہا ہے کہ کوئی کسی صحابی کو کافر کہنے کی وجہ سے دیوبندیت سے بھی خارج نہیں ہوتا تو اُنہی دیوبندی مولیوں نے اپنا ہی سابقہ فتویٰ پسِ پشت ڈال کر اپنے رشید کو بچایا کہ ”رشید احمد گنگوہی کا یہ مسٸلہ صحیح اور درست ہے“، اور جب سوال کرنے والے نے یہ کہا کہ ”ہمارا عقیدہ تو یہ ہے کہ صحابہ کو کافر کہنے والا کافر ہے تو رشید احمد کے نزدیک وہ دیوبندیت سے خارج کیوں نہیں ؟“ تو اُس کے بارے میں کہہ دیا کہ ”یہ عام ضابطہ نہیں ہے کہ ہر صحابی کو کافر کہنے والا کافر ہے، بلکہ یہ شیخین (حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہ) کے ساتھ خاص ہے کہ کوٸی شخص اُن کو کافر کہتا ہے تو کہنے والا کافر ہو گا لیکن شیخین کے علاوہ کسی صحابی کو کافر کہنے والا کافر نہیں.

دارالافتاء دارالعلوم دیوبند کے اِنہی دیوبندی مولیوں سے ایک اور سوال ہوا جس میں اِن کے کسی اکابر کی کسی عبارت کا تذکرہ نہیں کیا گیا تھا بلکہ ایک شخص کے بارے میں سوال ہوا جو صحابہ کرام خصوصاً حضرت امیر معاویہ رضی الله عنه کو بُرا بھلا کہتا تھا، وہ سوال مع جواب مُلاحظہ فرمائیں.

سوال: لکھنو میں ایک شخص ہے جو صحابہ کرام کی مقدس جماعت پر برملا تنقید کرتا ہے، خصوصاً حضرت معاویہ رضی الله عنه کی شان میں گستاخی کرتا ہے، اس نے حضرت معاویہ رضی الله عنه کو عاصی، باغی اور ظالم تک کہا ہے، جو شخص بھی صحابہ کرام کے بارے مید برملا تبرا کرتا ہو اس شخص کے بارے میں شریعت اسلامیہ کیا کہتی ہے ؟ اگر ایسا شخص گمراہ ہے تو اس کی گمراہی کس نوعیت کی ہے ؟

دارالافتاء دارالعلوم دیوبند والوں نے جواب میں کہا!

دارالعلوم دیوبند کے سابق مفتی اعظم عزیز الرحمنٰ دیوبندی ایک سوال کہ ایک شخص حضرت امیر معاویہ رضی الله عنه کی شان میں الفاظ: دغاباز، خائن، جھوٹا، آل رسول کا دشمن کہتا ہے ایسے شخص کے لیے کیا حکم ہے؟ کے جواب میں لکھتے ہیں! ایسا شخص گنہگار اور فاسق و مبتدع ہے اور اہل سنت والجماعت (دیوبندیت) سے خارج ہے، (پھر دارالافتاء والوں نے کہا) پس صورت مسئولہ میں اگر کوئی شخص کسی بھی صحابی کی شان میں گستاخی کرتا ہے اور اُن کو بُرا بھلا کہتا ہے تو وہ گمراہ اور فاسق ہے اور دوسروں کی بھی ضلالت کا سبب ہے، اور اہل سنت والجماعت (دیوبندیت) سے خارج ہے اور اس کا ایمان خطرے میں ہے.

https://darulifta-deoband.com/home/ur/deviant-sects/601000

دیوبندی شیعہ بھائی بھائی (قسط 2)

اِس فتویٰ سے دیوبندی مولیوں کی منافقت اور شخصیت پرستی روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ اِنہی دیوبندی مولیوں سے جب کسی بھی صحابی کو کافر کہنے والے کے بارے میں سوال ہوا تو انہوں نے کسی بھی صحابی کو کافر کہنے والے کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا.

لیکن جب اِنہی سے اِن کے بڑے رشید احمد گنگوہی کے فتوے کے بارے میں پوچھا گیا کہ رشید احمد نے تو کہا ہے کہ کسی صحابی کو کافر کہنے والا صرف لعنتی ہے وہ دیوبندیت سے بھی خارج نہیں ہوتا تو اِنہوں نے ہی کہا کہ یہ فتویٰ بھی بلکل درست ہے کسی صحابی کو کافر کہنے والا دیوبندیت سے خارج نہیں ہوتا، اور کافر صرف وہ ہوتا ہے جو حضرت ابوبکر و عمر رضی الله عنه کو کافر کہتا ہے.

اور جب اِنہی دیوبندی مولیوں سے کسی اور شخص نے سوال کیا کہ لکھنو میں کوئی شخص صحابہ کرام اور حضرت امیر معاویہ رضی الله عنه کو بُرا بھلا کہہ رہا ہے تو اُس کے جواب میں اِنہی دیوبندی مولیوں نے کہا کہ حضرت امیر معاویہ رضی الله عنه یا کسی بھی صحابی کو بُرا بھلا کہنے والا گمراہ ہے اور دیوبندیت سے خارج ہو جاتا ہے.

یعنی ایک طرف تو دیوبندیوں نے اپنے رشید احمد گنگوہی کو بچانے کے لیے صحابہ کو کافر کہنے والے کو بھی دیوبندیت سے خارج کرنے سے انکار کر دیا اور دوسری طرف جہاں اِن کا کوئی اکابر سامنے نہیں تھا وہاں صحابہ کو کافر کہنے والا تو دور صرف صحابہ کو بُرا بھلا کہنے والے کو بھی دیوبندیت سے خارج کر دیا، اس سے ایک عام انسان بھی دیوبندی مفتیوں کی منافقت و شخصیت پسندی کا اندازہ لگا سکتا ہے.

اور جب دارالافتاء ڈاٹ انفو والے دیوبندی مفتیوں سے کسی نے رشید احمد گنگوہی کی عبارت بغیر اُس کا نام بیان کیے نقل کر کے سوال پوچھا تو کیا جواب مِلا مُلاحظہ فرمائیں.

عنوان: صحابہ کو کافر کہنے والا کافر ہے.

سوال: زید کہتا ہے کہ صحابہ کو کافر کہنے والا شخص ملعون ہے اہل سنت والجماعت (دیوبندیت) سے خارج نہ ہو گا، عمر کا کہنا ہے کہ صحابہ کو کافر کہنے والا کافر ہے، کس کا قول صحیح ہے ؟

دارالافتاء ڈاٹ انفو والوں نے جواب دیا کہ!

صحابہ کو کافر کہنے والا کافر ہے اور اہل سنت والجماعت (دیوبندیت) سے خارج ہے.

https://www.darulifta.info/question/bVTX/shab-ko-kafr-kn-oala-kafr

دیوبندی شیعہ بھائی بھائی (قسط 2)

یہاں پر سائل نے رشید احمد گنگوہی کی عبارت کو نقل کیا ہے لیکن رشید احمد گنگوہی کا نام نہیں لیا اِس لیے یہ جواب مِلا کہ صحابہ کو کافر کہنے والا کافر ہے اور دیوبندیت سے خارج ہے، اگر یہاں بھی سائل زید کی جگہ رشید احمد گنگوہی کا نام لے لیتا تو جواب کیا ہوتا اِس کا اندازہ آپ کو سابقہ فتاویٰ سے ہو ہی چکا ہو گا.

اب دیوبندی بتائہں کہ اِن میں سے کون سے فتاویٰ ٹھیک ہیں اور کون سے غلط ؟

اگر رشید احمد گنگوہی کے فتاویٰ ٹھیک ہیں کہ کسی صحابی کو کافر کہنے والا تو محض لعنتی ہے دیوبندیت سے خارج نہ ہوا، تو پھر دیوبندی کس منہ سے سپاہِ صحابہ نامی دہشتگرد تنظیم چلا رہے ہیں؟ اور اگر صحابہ کو کافر کہنے والا کافر ہے تو رشید احمد گنگوہی پر کیا حکمِ شرعی لگے گا ؟ اور اگر صحابہ کو بُرا بھلا کہنے والا بھی دیوبندیت سے خارج ہے تو جو دیوبندی مولوی اِس کے خلاف کے قائل ہیں جِن میں رشید احمد گنگوہی وغیرہ سرِفہرست ہیں اُن پر کیا حکمِ شرعی لگے گا ؟

یہ چند سوالات دیوبندیوں کے گَلے کی وہ ہڈی ہیں جِن کو نہ دیوبندی نِگل سکتے ہیں نہ ہی اُگل سکتے ہیں.


حضرت معاویہ رضی الله عنه اور حضرت ابوسفیان رضی الله عنه کو کافر کہنے والے کا حکم:

دارالافتاء بنوری ٹاؤن والوں سے ایک سوال ہوا کہ!

سوال: حضرت معاویہ رضی الله عنه اور حضرت ابوسفیان رضی الله عنه کو کافر کہنے والے کا کیا حکم ہے، کافر یا مسلمان ؟

دارالافتاء بنوری ٹاؤن والوں نے جواب میں کہا!

ایسا شخص گمراہ ہے، اہل سنت جماعت سے خارج ہے، اِس کو کافر نہیں کہا جاٸے گا.

https://www.banuri.edu.pk/readquestion/hazrat-muavia-or-hazrat-abu-sufyan-rziu-allah-unh-ko-kafir-kahnai-walai-ka-hukam-144603100281/08-09-2024

دیوبندی شیعہ بھائی بھائی (قسط 2)

اِس فتوے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دیوبندیوں کے نزدیک صحابہ کو کافر کہنے والا کافر نہیں ہوتا محض دیوبندیت سے خارج ہوتا ہے، یہاں پر بھی دیوبندیوں نے رشید احمد گنگوہی کے فتوے کو مدِنظر نہیں رکھا کہ صحابہ کو کافر کہنے والا دیوبندیت سے خارج نہیں ہوتا، کوئی اِن کو یاد کروائے کہ رشید احمد گنگوہی کے مطابق ایسا شخص دیوبندیت سے خارج نہیں ہوتا، اور اگر بنوری ٹاؤن والوں کے نزدیک رشید احمد گنگوہی کا فتویٰ غلط ہے تو ہمارا مطالبہ ہے کہ رشید احمد گنگوہی پر بھی اُس کے فتاویٰ کی وجہ سے حکمِ شرعی لگایا جائے.


شیخین کو گالی دینے والے کا حکم:

شیخین یعنی حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنه اور حضرت عمر رضی الله عنه کو گالی دینے والے شخص پر کیا حکم لگے گا اِس پر بھی دیوبندی مولوی ایک بات پر متفق نہیں ہیں.

دارالافتاء ڈاٹ انفو پر ایک سوال ہوا کہ:

سوال: اگر کوئی شخص شیخین رضی الله عنہما کو گالی دے تو ایسے شخص کے بارے میں کیا حکم ہے ؟

جواب: صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی شخص شیخین پر سب و شتم کرے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے گا.

https://www.darulifta.info/question/bYJJ/anbyaaa-o-shykhyn-ko-galy-dyna-krany-ayat-my-taoyl-aor-zko-ko-yks-krar-dyna

دیوبندی شیعہ بھائی بھائی (قسط 2)

جبکہ جب یہ سوال دارالافتاء جامعہ بنوریہ والوں سے ایک شخص نے کیا کہ:

میں نے بہت سے شیعہ حضرات کو دیکھا ہے کہ وہ دینِ اسلام کے خلفائے راشدین کے خلاف انتہائی غیر مہذبانہ گفتگو کرتے ہیں جو کہ مجھے بلکل برداشت نہیں ہوتا کہ کوئی ہمارے صحابہ کرام کے خلاف بکواس کرے، تو مجھے یہ جاننا ہے کہ جو بھی ایسی غلیظ زبان استعمال کرتا ہے تو کیا مسلمان کہلانے کے لائق ہے ؟

دارالافتاء جامعہ بنوریہ والوں نے جواب میں کہا کہ!

جو شیعہ خلفائے راشدہ اور دیگر صحابہ کرام کی شان میں گستاخی کرتا ہو اور نازیبا الفاظ استعمال کرتا ہو تو ایسا شخص فاسق و گمراہ ضرور ہے مگر اِس گستاخی کی وجہ سے وہ کافر نہیں بنتا.

https://www.onlinefatawa.com/view_fatwa/40486

دیوبندی شیعہ بھائی بھائی (قسط 2)

یہاں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ دیوبندی مفتیوں کے نزدیک اگر کوئی شیعہ خلفائے راشدہ (حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر، حضرت عثمان) کی جتنی مرضی گستاخی کرتا رہے اُن کے بارے میں جتنی مرضی نازیبا زبان استعمال کرتا رہے وہ شیعہ کافر نہیں ہوتا، جبکہ اِنہی دیوبندیوں کی سپاہِ صحابہ نامی دہشتگرد تنظیم اپنے اِنہی اکابرین کے فتوے چھپانے کی کوشش میں کافر کافر شیعہ کافر کے نعرے لگاتی رہتی ہے، لیکن جب ہم اُن کو اُن کے بڑوں کے یہ فتوے نکال کر دکھاتے ہیں اور وہی فتوے اُن کے اپنے اکابرین پر لگانے کا مطالبہ کرتے ہیں تو دیوبندی دُم دبا کر بھاگ جاتے ہیں.


صحابہ کو بُرا بھلا کہنے والے کی نمازِ جنازہ پڑھنا اور پڑھانا:

دارالافتاء بنوری ٹاؤن والوں سے صحابہ کرام کو بُرا بھلا کہنے والے کی نمازِ جنازہ پڑھنے اور پڑھانے کے بارے میں سوال ہوا کہ!

سوال: (ایک شخص نے سوال کیا) ہمارے ہاں ایک شخص حضرت امیر معاویہ رضی الله عنه اور امی عائشہ رضی الله عنہا کو برملا بُرا بھلا کہتا تھا، اور انتہائی نازیبا الفاظ استعمال کرتا تھا وہ مر گیا تو اس کی نماز جنازہ سُنی (مُراد دیوبندی) شخص نے پڑھائی، سوال یہ ہے کہ ایسے شخص کی نمازِ جنازہ پڑھنا، پڑھانا کیسا ؟

دارالافتاء بنوری ٹاؤن والوں نے جواب میں کہا!

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا اور حضرت امیر معاویہ رضی الله عنه کو بُرا بھلا کہنے والا شخص فاسق اور اہل سنت والجماعت (دیوبندیت) سے خارج ہے، لیکن اسلام سے خارج نہیں ہے، اس لیے اس کی نمازِ جنازہ پڑھنا اور پڑھانا جائز ہے، اس سے کسی کے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑا.

https://shortlink.uk/1mY-S

دیوبندی شیعہ بھائی بھائی (قسط 2)

اِس فتوے سے معلوم ہوتا ہے کہ دیوبندیوں کے نزدیک گستاخِ صحابہ کا جنازہ پڑھنا یا پڑھانا جائز ہے.


صحابی کو عذابِ قبر ہونا:

صحابہ کو عذابِ قبر ہونے کے بارے میں بھی دیوبندی مولوی ایک بات پر متفق نہیں ہیں.

دیوبندی مولوی الیاس گھمن، صحابہ کے بارے میں عذابِ قبر کا انکار کرتے ہوئے کہتا ہے!

”کسی زندہ کو ذلیل کرنے کے مقصد سے تکلیف دینے کو عذاب کہتے ہیں، ہمارا عقیدہ ہے کہ اللہ موت کے بعد عام بندے کو بھی عذاب نہیں دیتا، عام مومن کو عذاب نہیں ہوتا تو صحابی کو عذاب کہاں سے ہونا ہے ؟ عام مومن کو بھی اگر ہو تو اسے تذکیہ کہتے ہیں عذاب نہیں کہتے، صحابہ کے ساتھ وعدہ ہے کہ صحابی کا جہنم میں جانا تو دور کی بات ہے اُس کو جہنم کی آگ چھوئے گی بھی نہیں.

https://www.youtube.com/watch?v=sojQKeVpals

جبکہ جب یہی سوال دارالافتاء دارالعلوم دیوبند سے ہوا تو اُن کا جواب مُلاحظہ فرمائیں.

عنوان: کیا صحابی کو عذابِ قبر ہو سکتا ہے ؟

سوال: میں ایک طالب علم ہوں اور درس کے دروان چند احادیث سے یہ محسوس ہوا ہے کہ صحابہ رسول کو عذابِ قبر ہو رہا ہے، کیا یہ ممکن ہے کہ صحابی کو عذابِ قبر ہو ؟ کیا یہ صحابیت کے مقام کے خلاف نہیں ہے ؟

دارالافتاء والوں نے جواب میں کہا!

اہل سنت والجماعت (دیوبندیوں) کا عقیدہ ہے کہ عذابِ قبر برحق ہے، ہمیں ایسی کوئی دلیل نہیں مِلی جو صحابی کے عذابِ قبر سے استثناء پر دلالت کرے، اس لیے بہ ظاہر ممکن ہے کہ اگر بتقضائے بشریت کسی صحابی سے کوٸی لغزش ہو گئی ہو تو قبر ہی میں اس کی سزا دے کر ان کی تطہیر کر دی جائے.

https://darulifta-deoband.com/home/ur/islamic-beliefs/608362

دیوبندی شیعہ بھائی بھائی (قسط 2)

یہاں پر ایک دیوبندی مولوی کا کہنا ہے کہ صحابی کو تو کیا ایک عام مومن کو بھی عذابِ قبر نہیں ہو سکتا کیونکہ عذاب کہتے ہیں ذلیل کرنے کے مقصد سے دی جانے والی تکلیف کو، جبکہ دوسری طرف اِنہی کے بڑے مفتیوں کا کہنا ہے کہ عذابِ قبر برحق ہے اور ہمیں ایسی کوئی دلیل نہیں ملی جس سے ثابت ہو کہ صحابہ کو عذابِ قبر نہیں ہوتا، اس لیے ممکن ہے کہ صحابہ کو بھی اُن کی غلطیوں کی وجہ سے قبر میں ہی سزا دے دی جائے.

اب دیوبندی ہی بتائیں کہ کِس کا فتویٰ درست ہے اور کِس کا غلط ؟ اور درست کے خلاف پر کیا حکمِ شرعی ہو گا ؟ کیونکہ اگر صحابی کو عذابِ قبر ہو رہا ہے تو الیاس گھمن کے مطابق تو عذاب کسی کو ذلیل کرنے کے مقصد سے دی جانے والی تکلیف کو کہتے ہیں تو کیا الله تعالیٰ صحابہ کو معاذالله ذلیل کر رہا ہے ؟


صحابہ کا مرتد ہونا:

جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ روافض کے نزدیک نبیﷺ کی وفات کے بعد کئی صحابہ مرتد ہو گئے تھے، لیکن جب یہی سوال دیوبندی مفتیوں سے کیا گیا تو انہوں نے بھی اِس بات کی تائید کی کہ صحابی نبیﷺ کی حیات میں بھی اور نبیﷺ کی وفات کے بعد بھی مرتد ہو سکتا ہے بلکہ کئی صحابہ مرتد ہو گئے تھے اور اُن میں سے کئی مرتد ہی فوت ہوئے، ملاحظہ فرمائیں!

عنوان: کیا صحابی وفاتِ نبی کے بعد مرتد ہو سکتا ہے ؟

سوال: کیا حضور صلی الله علیه وسلم کی وفات کے بعد کچھ صحابہ مرتد بھی ہو گئے تھے ؟

دارالافتاء بنوری ٹاؤن والوں نے جواب میں کہا!

صورتِ مسئولہ میں اولاً صحابی کی تعریف کی ضرورت ہے کہ صحابی کس کو کہتے ہیں، علامہ ابن حجر رحمه الله فرماتے ہیں! صحابی وہ ہے جس نے ایمان کی حالت میں آپ علیه السلام سے ملاقات کی ہو، اور ایمان کی حالت میں ہی اُس کی وفات ہوئی ہو، اگرچہ درمیان میں رِدة حائل کیوں نہ ہو گئی ہو، (پھر دارالافتاء والوں نے کہا) اول تو یہ کہ کسی صحابی کا مرتد ہونا کوئی بعید نہیں، بلکہ یہ ممکن ہے اور یہ آپ علیه السلام کی حیات میں اور آپ کی وفات کے بعد بھی ہوا ہے، البتہ مرتد ہونے کی وجہ سے وہ شخص صحابیت سے نکل جاتا ہے، اور اس کے ارتداد کی وجہ سے شرف صحابیت میں بھی کوئی فرق نہیں آتا، نیز جو صحابہ ارتداد کے بعد دوبارہ اسلام کے حلقہ بگوش ہوئے وہ ضرور جنت میں جائیں گے، لیکن جو ارتداد کی حالت میں مر گیا وہ چوں کہ مسلمان ہی نہیں رہا، چہ جائے کہ صحابی ہوتا، اسی لیے وہ ہمیشہ کے لیے جنت سٕ محروم رہے گا، اور جہنم ہی اس کا ابدی ٹھکانہ ہو گا.

https://www.banuri.edu.pk/readquestion/kia-sahabi-wafat-e-nabi-ke-baad-murtad-hoskta-he-144503100585/20-09-2023

دیوبندی شیعہ بھائی بھائی (قسط 2)


اِس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ صحابہ کے مرتد ہونے کے بارے میں دیوبندیوں کا بھی وہی عقیدہ ہے جو روافض کا ہے کہ نبیﷺ کی وفات کے بعد کئی صحابہ مرتد ہو گٸے تھے.

اِن تمام فتاویٰ سے یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ دیوبندیوں اور شیعہ رافضیوں کے صحابہ کرام کے بارے میں عقائد مِلتے جُلتے ہی ہیں.

روافض کے نزدیک بھی صحابہ کو کافر کہنے والا کافر نہیں ہوتا، اور دیوبندیوں کے نزدیک بھی صحابہ کو کافر کہنے والا یا اُن کو گالی دینے والا یہاں تک کہ شیخین کریمین کو بھی کافر کہنے و گالی دینے والا کافر نہیں ہوتا بلکہ اِن کے اکابرین کے نزدیک ایسا شخص تو دیوبندیت سے بھی خارج نہیں ہوتا.

دیوبندی بھی صحابہ کی گستاخی کرنے والے کی نمازِ جنازہ پڑھنے و پڑھانے کو بھی جائز قرار دیتے ہیں.

روافض کے نزدیک بھی صحابی کو عذابِ قبر ہو سکتا ہے، اور دیوبندیوں کے نزدیک بھی صحابی کو عذابِ قبر ہو سکتا ہے بلکہ ہو رہا ہے.

روافض کے نزدیک بھی نبیﷺ کی وفات کے بعد کئی صحابہ مُرتد ہو گئے، دیوبندیوں کے نزدیک بھی کئی صحابہ نبیﷺ کی وفات کے بعد مُرتد ہو گئے اور مرتد ہی فوت ہوئے.

اِن تمام باتوں سے یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ ”دیوبندی، شیعہ بھائی بھائی“ ہیں اور اِن دونوں کے صحابہ کرام کے بارے میں عقائد ایک جیسے ہی ہیں.

آج کل کے جو دیوبندی خود کو بڑا عاشقِ صحابہ کہتے پھرتے ہیں وہ زرا ہمت کر کے اپنے اِن مفتیوں اور اکابرین کے فتاویٰ کا جواب دیں، یا اپنے اِن تمام مفتیوں بشمول رشید احمد گنگوہی کو کافر قرار دیں.

تحقیق ازقلم: مناظر اہلسنت وجماعت محمد ذوالقرنین الحنفی الماتریدی البریلوی عفی الله عنه

Powered by Blogger.