کیا حضرت علی رضی الله عنه، رسول اللهﷺ کے وصی و خلیفہ اور سب سے افضل ہیں ؟

حضرت علی رضی الله عنه کو نبیﷺ کے وصی و خلیفہ اور نبیﷺ کے بعد سب سے افضل ثابت کرنے کے لیے ایک روایت پیش کی جاتی ہے کہ نبیﷺ نے حضرت علی رضی الله عنه کو اپنا وصی اور اپنے بعد سب سے بہتر قرار دیا، یہ روایت مختلف الفاظ اور مختلف اسناد سے مروی ہے، لیکن یہ تمام روایات منکر و موضوع ہیں، اس روایت کے تمام طُرق اور اُن کی تحقیق ملاحظہ فرمائیں!

پہلی سند:

امام طبرانی رحمه الله نقل فرماتے ہیں!

سند:

”حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي، ثنا إبراهيم بن الحسن الثعلبي، ثنا يحيى بن يعلى، عن ناصح بن عبد الله، عن سماك بن حرب، عن أبي سعيد الخدري، عن سلمان، قال، قلت: يا رسول الله“

متن:

”سلمان قال، قلت: يا رسول الله، لكل نبي وصي، فمن وصيك؟ فسكت عني، فلما كان بعد رآني، فقال: يا سلمان، فأسرعت إليه، قلت: لبيك، قال: تعلم من وصي موسى؟ قلت: نعم يوشع بن نون، قال: لم؟ قلت: لأنه كان أعلمهم يومئذ، قال: فإن وصيي وموضع سري، وخير من أترك بعدي، وينجز عدني، ويقضي ديني علي بن أبي طالب“.

ترجمہ:

حضرت سلمان فارسی رضی الله عنه فرماتے ہیں میں نے رسول اللهﷺ سے پوچھا! ہر نبی کا ایک وصی(جانشین) ہوتا ہے، تو آپ کا وصی کون ہے؟ تو آپﷺ نے مجھے کوئی جواب نہ دیا، کچھ عرصہ بعد آپ نے مجھے دیکھا تو فرمایا! اے سلمان، تو میں نے عرض کیا، حاضر ہوں یا رسول اللهﷺ، آپﷺ نے فرمایا، کیا تم جانتے ہو کہ حضرت موسیٰ علیه السلام کے وصی کون تھے ؟ تو میں نے عرض کیا، جی ہاں یوشع بن نون علیه السلام، آپﷺ نے فرمایا، کس وجہ سے؟ تو میں نے عرض کیا، اِس لیے کہ وہ اُن سب میں سب سے زیادہ علم والے تھے، تب رسول اللهﷺ نے فرمایا! بے شک میرا وصی، میرا رازدار، اور میرے بعد جِسے میں سب سے بہتر چھوڑ کر جا رہا ہوں، جو میرے وعدوں کو پورا کرے گا، اور میرا قرض ادا کرے گا وہ علی بن ابی طالب ہیں.

(المعجم الکبیر للطبرانی، جلد 5، روایت 6063)

کیا حضرت علی رضی الله عنه، رسول اللهﷺ کے وصی و خلیفہ اور سب سے افضل ہیں ؟

اسناد کا تعاقب:

اس سند میں دو علتیں ہیں!

پہلی علت:

اس روایت کا راوی ”یحییٰ بن یعلیٰ اسلمی کوفی“ مضطرب الحدیث، ضعیف شیعہ راوی ہے اور اس سے منکر روایات منقول ہیں، ملاحظہ فرمائیں.

امام ذھبی رحمه الله اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں!

”امام بخاری کہتے ہیں یہ مضطرب الحدیث ہے،امام ابو حاتم کہتے ہیں یہ ضعیف ہے (پھر امام ذھبی نے اس کی منکر روایات میں سے ایک کا تذکرہ کیا).

(میزان الاعتدال، جلد 7، صفحہ 224)


امام ابن حجر عسقلانی رحمه الله، اِس کے بارے میں فرماتے ہیں!

”یحییٰ بن یعلی، نوویں طبقہ کا ضعیف شیعہ راوی ہے“.

(تقریب التہذیب، جلد 2، صفحہ 308)


اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ ”یحییٰ بن یعلیٰ“ مضطرب الحدیث اور ضعیف شیعہ راوی ہے اور اس سے منکر روایات منقول ہیں.

دوسری علت:

اس روایت کا راوی ”ناصح بن عبدالله محلمی“ بھی منکر الحدیث، ضعیف راوی ہے اور اس سے بھی منکر روایات منقول ہیں، اِس راوی کے ترجمہ میں امام ذھبی رحمه الله نے اِسی روایت کو منکر قرار دیا ہے مُلاحظہ فرمائیں!

امام ذھبی رحمه الله، ناصح بن عبدالله کے ترجمہ میں فرماتے ہیں!

”امام نسائی اور دیگر حضرات نے اِسے ضعیف قرار دیا ہے، امام بخاری کہتے ہیں یہ منکر الحدیث ہے، فلاس کہتے ہیں یہ متروک ہے، یحییٰ بن معین کہتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں اور ایک مرتبہ کہا یہ ثقہ نہیں ہے،(پھر امام ذھبی نے اِس کی یہی حضرت سلمان رضی الله عنه سے مروی روایت نقل کر کے فرمایا) یہ روایت منکر ہے“.

(میزان الاعتدال، جلد 7، صحفہ 46،47)


ان جروحات سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ دونوں راوی سخت ضعیف و منکر الحدیث ہیں اِن کی روایات سے استدلال نہیں کیا جا سکتا، اور اِس روایت کو امام ذھبی رحمه الله نے خود منکر کہا ہے اِس لیے اس روایت سے کسی صورت استدلال جائز نہیں.

دوسری سند:

امام ابن عساکر رحمه الله نقل فرماتے ہیں!

سند:

”اخبرنا ابو الفضل الفضيلي، نا ابو القاسم الخليلي، انا ابو القاسم الخزاعي، انا الهيثم بن كليب الشاشي، نا محمد بن علي، نا يحيى الحماني، نا شريك، عن الاعمش، عن المنهال ابن عمرو، عن عباد بن عبد الله الاسدي، عن علي قال، قال النبي ﷺ“

متن:

”علي قال: قال النبيﷺ، علي يقضي ديني، وينجز موعودي، وخير من أخلفه في أهلي“.

ترجمہ:

حضرت علی رضی الله عنه سے روایت ہے کہ رسول اللهﷺ نے فرمایا! علی میرا قرض ادا کرے گا، اور میرے وعدوں کو پورا کرے گا، اور میرے (بعد میرے) اہل خانہ میں سب سے بہترین خلیفہ ہیں.

(تاریخ مدینة دمشق لابن عساکر، جلد 42، صفحہ 56)


اسناد کا تعاقب:

اس روایت کی سند میں بھی دو علتیں ہیں.

پہلی علت:

اس روایت کا راوی ”یحییٰ بن عبد الحمید الحمانی“ سخت ضعیف اور غالی رافضی راوی ہے، احادیث چوری کرتا تھا اور اس کو کذاب کہا گیا ہے، مُلاحظہ فرمائیں.

امام ذھبی رحمه الله یحییٰ کے ترجمہ میں فرماتے ہیں!

”امام احمد بن حنبل کہتے ہیں یہ کھلم کھلا جھوٹ بولا کرتا تھا، امام نسائی کہتے ہیں یہ ضعیف ہے، امام بخاری کہتے ہیں امام احمد بن حنبل اور علی بن مدینی نے اس کے بارے میں کلام کیا ہے، محمد بن عبدالله بن نمیر کہتے ہیں ابن حمانی کذاب ہے، امام ابن عدی کہتے ہیں کہ امام دارمی نے اس کو اپنی کتب دی تھیں، اور اس نے اُن کی کتابوں سے احادیث چوری کر لیں، جو سلیمان بن بلال سے منقول تھیں، اور حمانی نے بذات خود سلیمان کے حوالے سے ان روایات کو نقل کر دیا، (امام ذھبی کہتے ہیں) یہ بغض رکھنے والا شیعہ ہے، زیاد بن ایوب کہتے ہیں کہ یحییٰ حمانی کہتا تھا معاویہ رضی الله عنه اسلام کی بجائے کسی اور دین پر تھے، (پھر امام ذھبی کہتے ہیں) میں کہتا ہوں اسے ضعیف قرار دیا گیا ہے“.

(میزان الاعتدال، جلد 7، 198،199)


امام ذھبی رحمه الله، یحییٰ حمانی کو ”المغنی“ میں شامل کر کے فرماتے ہیں!

”یحییٰ بن عبدالحمید الحمانی یہ منکر الحدیث ہے، امام احمد بن حنبل کہتے ہیں یہ کھلم کھلا جھوٹ بولا کرتا تھا، اور امام نسائی کہتے ہیں یہ ضعیف ہے“.

(المغنی فی الضعفاء، جلد 2، صفحہ 407)


امام ذھبی رحمه الله نے یحییٰ کو ”دیوان الضعفاء“ میں بھی شامل کیا اور فرماتے ہیں!

”امام نسائی کہتے ہیں یہ ضعیف ہے، امام احمد کہتے ہیں یہ کھلم کھلا جھوٹ بولتا تھا اور حدیثیں چوری کرتا تھا، محمد بن عبدالله بن نمیر کہتے ہیں یہ جھوٹا ہے، اور جوزجانی کہتے ہیں اس کی احادیث کو ترک کر دیا گیا، (پھر امام ذھبی فرماتے ہیں) یہ شیعہ (رافضی) ہے جو چاہتا تھا بول دیتا تھا، یہ حضرت معاویہ رضی الله عنه کو کافر کہتا تھا“.

(دیوان الضعفاء والمتروکین، صفحہ 436)


علامہ بدالدین عینی رحمه الله، یحییٰ کے بارے میں فرماتے ہیں!

”یہ بغض رکھنے والا شیعہ(یعنی رافضی) ہے“.

(مغانی الاخیار، جلد 3، صفحہ 218)


امام ابن جوزی رحمہ اللہ نے بھی یحییٰ حمانی کو ”الضعفاء“ میں شامل کیا اور فرماتے ہیں!

”ابن نمیر کہتے ہیں یہ جھوٹا ہے، امام احمد کہتے ہیں یہ کھلم کھلا جھوٹ بولتا تھا اور حدیثیں چوری کرتا تھا، امام نسائی کہتے ہیں یہ ضعیف ہے“.

(کتاب الضعفاء والمتروکین، جلد 3، صفحہ 197)


ان جروحات سے ثابت ہوتا ہے کہ ”یحییٰ بن عبدالحمید“ سخت ضعیف، رافضی شیعہ اور کذاب راوی ہے ، اس کی روایات سے استدلال جائز نہیں.

دوسری علت:

اس روایت کا راوی ”عباد بن عبدالله“ بھی سخت ضعیف و متروک راوی ہے، اس کا ترجمہ مُلاحظہ فرمائیں.

امام ذھبی رحمه الله، عباد کے ترجمہ میں فرماتے ہیں!

”امام بخاری اس کے بارے میں کہتے ہیں فیہ نظر (اور امام بخاری رحمه الله اُس راوی کے بارے میں فیہ نظر  کہتے ہیں جو اُن کے نزدیک متروک الحدیث ہو)، (پھر امام ذھبی اِس کی ایک روایت جو اس نے حضرت علی رضی الله عنه کے بارے میں بیان کی ہے کہ حضرت علی نے فرمایا میں صدیق اکبر ہوں کے بارے میں فرماتے ہیں) میں کہتا ہوں یہ حضرت علی رضی الله عنه پر جھوٹ ہے، علی بن مدینی کہتے ہیں یہ راوی ضعیف ہے“.

(میزان الاعتدال، جلد 4، صفحہ 31)


امام ابن حجر عسقلانی رحمه الله، عباد کے ترجمہ میں فرماتے ہیں!

”امام بخاری اِس کے بارے میں کہتے ہیں فیہ نظر، اور ابن سعد کہتے ہیں اِس (عباد) کے پاس قصے کہانیاں ہیں، اور علی بن مدینی کہتے ہیں یہ راوی ضعیف ہے، امام ابن جوزی کہتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل نے اِس کی حضرت علی رضی الله عنه کے بارے میں بیان کردہ حدیث کہ میں صدیق اکبر ہوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے یہ منکر ہے، اور ابن حزم کہتے ہیں یہ مجہول ہے“.

(تھذیب التھذیب، جلد 2، صفحہ 279)


ان جروحات سے ثابت ہوتا ہے کہ عباد بن عبدالله بھی سخت ضعیف و متروک راوی ہے کیونکہ امام بخاری رحمه الله نے اس پر فیہ نظر کی جرح کی ہے اور امام بخاری رحمه الله یہ جرح اُس راوی پر کرتے ہیں جو اُن کے نزدیک متروک ہو، اور اِس سے منکر روایات بھی منقول ہیں، جن سے کسی صورت استدلال جائز نہیں.

یحییٰ بن عبدالحمید حمانی اور عباد بن عبدالله دونوں راوی سخت ضعیف و متروک و کذاب ہیں، اور یہ روایت بھی موضوع ہے اس سے استدلال کسی صورت جائز نہیں.

تیسری سند:

امام ابن عساکر رحمه الله نقل فرماتے ہیں!

سند:

”قرأت على أبي محمد بن حمزة، عن أبي بكر الخطيب، أنا الحسن بن أبي بكر، أنا أبو سهل أحمد بن محمد بن عبد الله القطان، نا الحسن بن العباس الرازي، نا القاسم بن خليفة أبو محمد، نا أبو يحيى التيمي إسماعيل بن إبراهيم، عن مطير أبي خالد، عن أنس بن مالك قال“

متن:

”أنس بن مالك قال: كنا إذا أردنا أن نسأل رسول اللهﷺ أمرنا علي بن أبي طالب أو سلمان الفارسي، أو ثابت بن معاد الأنصاري لأنهم كانوا أجرأ أصحابه على سؤاله، فلما نزلت: (إذا جاء نصر الله والفتح) وعلمنا أن رسول الله ﷺ نعيت إليه نفسه قلنا لسلمان: سل رسول الله ﷺ من نسند إليه أمورنا، ويكون مفزعنا، ومن أحب الناس إليه؟ فلقيه، فسأله فأعرض عنه، ثم سأله فأعرض عنه، فخشي سلمان أن يكون رسول الله ﷺ قد مقته ووجد عليه، فلما كان بعد لقيه، قال: يا سلمان، يا أبا عبد الله ألا أحدثك عما كنت سألتني؟ فقال: يا رسول الله إني خشيت أن تكون قد مقتني ووجدت علي، قال: كلا يا سلمان، إن أخي ووزيري وخليفتي في أهل بيتي، وخير من تركت بعدي يقضي ديني، وينجز موعدي علي بن أبي طالب“.

ترجمہ:

حضرت انس بن مالک رضی الله عنه فرماتے ہیں! کہ ہم جب بھی رسول اللهﷺ سے کوئی سوال کرنا چاہتے، تو پہلے ہم حضرت علی بن ابی طالب، سلمان فارسی یا ثابت بن معاذ انصاری رضی الله عنہم اجمعین کے پاس جاتے، کیونکہ یہ صحابہ سوال کرنے میں سب سے زیادہ نڈر اور جرأت مند تھے، پھر جب سورۃ النصر کی آیت نازل ہوئی (اور جب الله کی مدد اور فتح آئے) اور ہمیں معلوم ہوا کہ رسول اللہﷺ کی وفات قریب ہے، تو ہم نے سلمان سے کہا کہ رسول اللهﷺ سے سوال کریں کہ ہم اپنے امور کس کے سپرد کریں، اور کس کی پناہ میں جائیں، اور آپ کے سب سے محبوب شخص کون ہیں؟ سلمان نے رسولﷺ سے پوچھا، مگر آپﷺ نے کوئی جواب نہ دیا، پھر دوبارہ پوچھا تو بھی جواب نہ دیا، سلمان ڈر گئے کہ کہیں رسول اللهﷺ ناراض نہ ہو گئے ہوں، کچھ دن بعد جب دوبارہ ملاقات ہوئی، تو رسول اللهﷺ نے فرمایا! اے سلمان، اے ابو عبد اللہ کیا میں تمہیں وہ بات نہ بتاؤں جس کے بارے میں تم نے مجھ سے سوال کیا تھا؟ سلمان نے عرض کیا! یا رسول اللهﷺ! میں ڈرا کہ شاید آپ ناراض ہو گئے ہو اور میرے بارے میں (آپ کے دِل میں) ناگواری آگئی ہو، تو رسول اللهﷺ نے فرمایا: نہیں سلمان! میرا بھائی، میرا وزیر، اور میرے اہلِ بیت میں میرا وصی، اور میرے بعد جو شخص میرے دین کو پورا کرے گا اور میرے وعدوں کو انجام دے گا، وہ علی بن ابی طالب ہیں“.

(تاریخ مدینة دمشق لابن عساکر، جلد 42، صفحہ 56)


اسناد کا تعاقب:

اس روایت کی سند میں چار علتیں ہیں.

پہلی علت:

اس روایت کا راوی ”حسن بن عباس رازی“ مجہول ہے، اس کا ترجمہ اہلسنت کی اسماء و رجال کی کتب میں موجود نہیں، یہ شیعہ رجال کا راوی ہے، لیکن شیعہ رجال میں بھی اس کو ضعیف کہا گیا ہے، مُلاحظہ فرمائیں.

شیعہ زاکر محمد الجواھری، حسن بن عباس کے ترجمہ میں کہتا ہے!

”حسن بن عباس رازی یہ امام جواد کے اصحاب میں سے ہے، انتہائی ضعیف ہے“.

(المفید من معجم رجال الحدیث، صفحہ 143)


اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ راوی شیعہ رجال کا راوی ہے اور شیعہ رجال کے مطابق بھی یہ راوی انتہائی ضعیف ہے.

دوسری علت:

اس روایت کا راوی ”قاسم بن خلیفہ“ بھی مجہول ہے اور شیعہ راوی ہے، مُلاحظہ فرمائیں.

امام ابوحاتم الرازی رحمه الله، قاسم بن خلیفہ کے بارے میں فرماتے ہیں!

”قاسم بن خلیفہ کوفی، یہ شیعہ ہے اور حسن بن صالح کے اصحاب میں سے ہے“.

(الجرح والتعدیل، جلد 7، صفحہ 109)


اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ راوی بھی شیعہ ہے، اور بدعتی شیعہ معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس کا استاد حسن بن صالح بھی بدعتی شیعہ ہے، اور یہ راوی مجہول بھی ہے کیونکہ اسماء و رجال کی کتب میں اس کی توثیق یا تضعیف بھی موجود نہیں.

تیسری علت:

اس روایت کا راوی ”اسماعیل بن ابراہیم ابویحییٰ تمیمی“ سخت ضعیف راوی ہے، مُلاحظہ فرمائیں.

امام ذھبی رحمه الله، اسماعیل کے ترجمہ میں فرماتے ہیں!

”محمد بن عبدالله بن نمیر کہتے ہیں یہ انتہائی ضعیف ہے، ابن مدینی کہتے ہیں یہ ضعیف ہے، اسی طرح کئی محدثین نے اِسے ضعیف قرار دیا ہے“.

(میزان الاعتدال، جلد 1، صفحہ 296)


اِن جروحات سے ثابت ہوتا ہے کہ اسماعیل بن ابراہیم انتہائی ضعیف راوی ہے.

چوتھی علت:

اس روایت کا راوی ”مطیر بن ابی خالد“ متروک الحدیث راوی ہے مُلاحظہ فرمائیں.

امام ذھبی رحمه الله، مطیر کے ترجمہ میں فرماتے ہیں!

”مطیر بن خالد، اس نے حضرت عائشہ رضی الله عنہا اور حضرت انس رضی الله عنه سے روایات نقل کی ہیں، امام ابوحاتم کہتے ہیں یہ متروک الحدیث ہے“.

(میزان الاعتدال، جلد 6، صفحہ 434)


اِس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ راوی متروک الحدیث ہے اور اس کی روایات موضوع ہیں.

ان تمام دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایت بھی موضوع ہے کیونکہ اس کی سند میں متروک و مجہول شیعہ راوی موجود ہیں، اِس لیے اس روایت سے بھی کسی صورت استدلال جائز نہیں.

چوتھی سند:

امام ابن عساکر رحمه الله نقل فرماتے ہیں!

سند:

”اخبرنا ابو القاسم بن السمرقندي، نا ابو القاسم بن مسعدة، نا حمزة بن يوسف، نا ابو احمد بن عدي، نا ابن ابي سفيان، نا علي بن سهل، نا عبيد الله بن موسى، نا مطر الاسكاف، عن انس قال“

متن:

”عن انس قال: قال النبي! علي اخي، وصاحبي، وابن عمي، وخير من اترك بعدي، يقضي ديني، وينجز موعدي“.

ترجمہ:

حضرت انس بن مالک رضی الله عنه سے روایت ہے کہ رسول اللهﷺ نے فرمایا! علی میرا بھائی ہے، میرا ساتھی ہے، اور میرا چچازاد ہے، اور جو کچھ میں اپنے بعد چھوڑ کر جاؤں گا اُن میں سب سے بہتر ہے، یہ میرے دین کو مکمل کرے گا اور میرے وعدوں کو پورا کرے گا.

(تاریخ مدینة دمشق لابن عساکر، جلد 42، صفحہ 57)


اسناد کا تعاقب:

اس روایت کی سند میں دو علتیں ہیں.

پہلی علت:

اس روایت کا راوی ”عبید الله بن موسیٰ“ اپنی ذات کے اعتبار سے تو ثقہ ہے مگر بدعتی شیعہ ہے، اور اصولِ حدیث کے مطابق بدعتی شیعہ راوی کی وہ روایات جو اس کے مذہب و بدعت کو تقویت دیں قبول نہیں کی جاتیں، عبیداللہ کا ترجمہ مُلاحظہ فرمائیں.

امام ذھبی رحمه الله، عبید الله کے ترجمہ میں فرماتے ہیں!

”یہ امام بخاری کا استاد ہے، اپنی ذات کے اعتبار سے تو ثقہ ہے، لیکن یہ شیعہ اور جل جانے والا شخص ہے، امام ابوداؤد کہتے ہیں یہ شیعہ تھا اور جل جانے والا شخص تھا، میمونی کہتے ہیں، امام احمد کہتے ہیں کہ عبیدالله اختلاط کا شکار ہو جاتا تھا، اس نے غلط روایات بیان کی ہیں، اور اس نے جھوٹی (اختلاط کے سبب باطل) روایات بیان کی ہیں“.

(میزان الاعتدال، جلد 5، صفحہ 51)


امام ذھبی رحمه الله، الکاشف میں عبیدالله کے بارے میں فرماتے ہیں!

”عبیدالله بن موسیٰ اپنے تشیع و بدعت کی وجہ سے معروف ہے“.

(الکاشف، جلد 1، صفحہ 687)


اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عبیدالله بن موسیٰ اپنی ذات کے اعتبار سے تو ثقہ ہے لیکن یہ بدعتی شیعہ ہے، اور اہلسنت کے اصولِ حدیث پر بدعتی شیعہ راوی کی وہ روایات جو اس کے مذہب و بدعت کو تقویت دیں قبول نہیں کی جاتیں.

دوسری علت:

اس کا راوی ”مطر بن میمون الأسکاف“ منکر الحدیث ہے اور احادیث وضع کرتا تھا اور یہ روایت بھی اِسی نے ایجاد کی ہے، مُلاحظہ فرمائیں!

امام ذھبی رحمه الله، مطر کے ترجمہ میں فرماتے ہیں!

”امام بخاری، امام ابوحاتم، اور امام نسائی کہتے ہیں یہ منکر الحدیث ہے، اس راوی نے حضرت انس رضی الله عنه کے حوالے سے مرفوع حدیث نقل کی ہے (رسول اللهﷺ نے فرمایا) بے شک میرا بھائی، میرا وزیر اور میرے اہل خانہ کے بارے میں میرا جانشین اور میرے بعد جو کچھ میں چھوڑ کر جاؤں گا اُس میں سب سے بہتر علی ہے، (امام ذھبی فرماتے ہیں) میں کہتا ہوں یہ روایت موضوع ہے، (پھر ایک اور روایت نقل کرتے ہیں کہ) رسول اللهﷺ نے فرمایا! علی میرا بھائی ہے، میرا ساتھی ہے، اور میرا چچازاد ہے، اور میں جو کچھ اپنے بعد چھوڑ کر جاؤں گا، اُن میں سب سے بہتر ہے، یہ میرے دین کو مکمل کرے گا اور میرے وعدوں کو پورا کرے گا، راوی بیان کرتا ہے کہ میں نے مطر سے پوچھا تم نے حضرت انس رضی الله عنه سے ملاقات کہاں کی تھی ؟ تو اس نے جواب دیا خریبہ میں (یعنی مطر نے جھوٹ بولا) (امام ذھبی فرماتے ہیں) میں کہتا ہوں یہ اور اس سے پہلے کی تمام روایات میں ایجاد کرنے کا الزام مطر نام راوی کے سر ہے“.

(میزان الاعتدال، جلد 6، صفحہ 432،433)


ان جروحات و دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایت مطر نے گھڑی ہے اور مطر خود منکر الحدیث راوی ہے اور احادیث ایجاد کرتا تھا، اور یہ روایت موضوع ہے، اس سے بھی کسی صورت استدلال جائز نہیں.

پس ثابت ہوا کہ یہ تمام روایات موضوع و منکر ہیں اِس لیے ان سے کسی صورت استدلال جائز نہیں، ایسے ہی متن کی دو روایات اور ہیں جن میں سے ایک کا راوی یہی ”مطر بن میمون“ ہے اور اُس روایت کے بارے میں بھی امام ذھبی رحمه الله کا تبصرہ بیان کیا جا چُکا ہے کہ وہ بھی موضوع ہے، اور دوسری روایت ”مطیر بن ابو خالد“ کے حوالے سے منقول ہے جس راوی کا ترجمہ بھی گُرز چکا ہے کہ وہ بھی متروک الحدیث ہے، لہٰذا الگ سے اُن روایات کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ بھی موضوع ہیں.

اب ممکن ہے کہ کوئی یہ کہے کہ اہلسنت کے نزدیک ضعیف روایات کثرت طُرق سے حسن درجہ کو پہنچ جاتی ہے تو یہ روایت بھی حسن ہوئی اور فضائل میں قابل قبول ہیں، تو اس خدشہ کا رد بھی کرتے چلیں کہ ہمارے نزدیک فقط ضعیف درجہ کی روایت ہی کثرت طُرق سے درجہ صحت کو پہنچتی ہے، اور فضائل میں قبول کی جاتی ہے، نہ کہ موضوع روایات، موضوع روایات تو کثرت طُرق سے مزید موضوع ہو جاتی ہیں، جیسا کہ امام احمد رضا خان رحمه الله فرماتے ہیں!

”موضوع حدیث کسی طرح کار آمد نہیں ہے، اور کثرت طُرق کے باوجود اس کا عیب ختم نہیں ہو سکتا، کیونکہ شر کی زیادتی سے شر مزید بڑھتا ہے، نیز موضوع، معدوم چیز کی طرح ہے، اور معدوم چیز نہ قوی ہو سکتی ہے اور نہ قوی بنائی جا سکتی ہے“.

(فتاویٰ رضویہ شریف، جلد 5، صفحہ 538)


اِس لیے یہ دعویٰ کرنا کہ یہ روایت کثرت طُرق کی وجہ سے درجہ صحت کو پہنچ جاتی ہے اور فضائل میں قابلِ قبول ہے، بلکل باطل ہے.

تحقیق ازقلم: مناظر اہلسنت وجماعت محمد ذوالقرنین الحنفی الماتریدی البریلوی عفی اللہ عنه

Powered by Blogger.